Sunday, 25 November 2018

گورنر نے تو سبھی کے پاﺅں تلے زمین کھسکا دی

جموں کشمیر میں بدھوار کو سیاسی ہلچل تیزی سے بدلی اور صبح ریاست میں سرکار کی تشکیل کے لئے پی ڈی پی ،کانگریس اور نیشنل کانفرنس کے درمیان اتحاد کی بات بن گئی تو شام کو پی ڈی پی کی چیف محبوبہ مفتی نے سرکار بنانے کا دعوی پیش کیا اس کے ٹھیک بعد پیپلز کانفرنس کے لیڈر سجاد لون نے بھی دعوی پیش کر دیا لیکن تھوڑی ہی دیر بعد گورنر ستیہ پال ملک نے اسمبلی بھنگ کرنے کا اعلان کر دیا ۔گورنر کے اس فیصلے سے سیاسی طوفان آگیا اور اس فیصلے کی مخالفت اور حمایت بھی ہو رہی ہے ۔گورنر نے جموں و کشمیر اسمبلی بھنگ کرنے کی چار دلیلیں پیش کی ہیں ۔ایک برعکس نظریات والی سیاسی پارٹیوں کے ساتھ آنے سے پائیدار سرکار بنانا نا ممکن تھا ،ان میں وہ پارٹیاں بھی شامل تھیں جو اسمبلی کو بھنگ کرنے کی مانگ کر رہی تھیں ۔پچھلے کچھ برسوں کا تجربہ رہا ہے ،مخلوط ماینڈیڈ کے ساتھ پائیدار سرکار بنانا ممکن نہیں ہوتا جو پارٹیاں ساتھ آئی تھیں وہ ذمہ دار سرکار بنانے کی جگہ اقتدار پانے کی کوشش میں تھیں ۔دوسرا :سرکار بنانے کے لئے دیگر ممبران اسمبلی کی حمایت ضروری تھی ایسے میں خرید و فرخت اور پیسے کے لین دین کے امکانات زیادہ تھے ۔ریاست میں اس طرح کی بھی رپورٹ مل رہی تھی کہ جمہوریت کے لئے اس طرح کی سر گرمیاں مفاد میں نہیں تھیں اور اسے سیاسی عمل آلودہوتا اس لئے اسمبلی بھنگ کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا ۔تیسرا:اگر برعکس نظریات والی پارٹیوں کی سرکار بن بھی جاتی تو اس کے لمبے چلنے میں شبہ تھا ۔عکسریت حاصل کرنے کے چکر میں ان میں کبھی بھی ٹوٹ پھوٹ ہو جاتی اور سرکار مضبوط نہ ہوتی ۔چوتھی:ریاست میں سلامتی پس منظر کو دیکھتے ہوئے یہاں دہشتگردی مخالف کارروائیوں میں تعینات سیکورٹی فورس کے لئے جو کہ آہستہ آہستہ حالات پر قابو پانے لگی ہے ۔ایک مضبوط اور اتحادی ماحول کی ضرورت ہے ۔بیشک گورنر کی دلیلوں میں دم ہے لیکن اس فیصلے کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ آئین اور روایت کا تقا ضہ تو یہی تھا کہ گورنر سب سے پہلے سب سے بڑئے اتحاد کو سرکار بنانے کےلئے مدعو کرتے اور اسے اسمبلی میں جلدی اپنی عکسریت ثابت کرنے کو کہتے گورنر ستیہ پال ملک جیسے منجھے ہوئے سیاست داں کو صوبے کا گورنر بنا کر بھاجپا نئے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنی سرکار بنانا چاہتی تھی اسے سجاد لون کی شکل میں ایک نیا ساتھی بھی ملا جو پی ڈی پی اور دوسری پارٹیوں کے باغی ممبران کو اپنے ساتھ لانے کی حکمت عملی پر آگے بڑھ رہے تھے ۔اس نئے سیاسی تجزئے کو سمجھتے ہی تلوار اور ڈھال کی طرح ایک دوسرے سے ملنے والی پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس ایک ساتھ آنے پر رضا مند ہو گئیں ان کا ایک ساتھ اسٹیج پر آنا کسی کو بھی حیرت میں ڈال سکتا ہے کیونکہ جموں وکشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ بچائے رکھنا اور بھاجپا کو اقتدار سے دور رکھنے کے بجائے ان کے درمیان عام رائے کے سبھی اشو ندارد ہیں ۔لیکن پی ڈی پی اور نیشنل کانفرنس و کانگریس کے ایک اسٹیج پر آنے سے یہ طے ہو گیا تھا کہ سرکار بنانے کے لئے ضروری اکثریت تو حاصل کر لیتے۔ایسی صورت میں بھاجپا کے مرکزی لیڈر شپ کے پاس دو ہی متابادل تھے پہلے اسمبلی بھنگ کر کے نئے چناﺅ کرانا اور صوبے میں غیر بھاجپا حکومت بنتے دیکھنا ۔اسمبلی بھنگ کر کے گورنر ملک نے پی ڈی پی نیشنل کانفرنس و کانگریس کو تو اتنا نہیں چونکایا جتنا اس نے بھاجپا کو حیرت میں ڈال دیا ہوگا کیونکہ صحیح معنوں میں مرکز میں قائم بھاجپا سرکار کے ان قدموں کو بھی روک دیا جس کے تحت بھاجپا سجا د لون کے کندھوں پر بندوق رکھ سرکار بنانا چاہتی تھی اور مانا کہ دو ممبر ہونے کے باوجود وہ سرکار بنانے کا دعوی کرنے کی پوزیشن کو مضحکہ خیز بنانے جا رہے تھے ۔

(انل نریندر)

No comments:

Post a comment