Tuesday, 27 November 2018

مدھیہ پردیش میں کانگریس کےلئے ابھی نہیں تو کبھی نہیں والی پوزیشن

مدھیہ پردیش میں اسمبلی چناﺅ مہم اپنے شباب پر ہے کانگریس اور بھاجپا دونوں نے ہی اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے ۔پولنگ 28نومبر سے پہلے کی جو حالت ہے اس سے یہ صاف ہے کہ چوتھی پاری کی تیاری کر رہی بھاجپا کو کانگریس سے زبردست چنوتی مل رہی ہے۔شاید یہی وجہ ہے کہ بی جے پی اپنے پہلے دئے گئے نارے کو بھول گئی ہے اب اس کے نیتا صرف جیت کی بات کر رہے ہیں انہوںنے نمبروں کا دعوی چھوڑ دیا ہے تقریبا سبھی سروے اس مرتبہ مدھیہ پردیش میں اس مرتبہ کانگریس کی جیت کی پیش گوئی کر رہے ہیں ۔یہ کانگریس کے لئے سنہرا موقع ہے ۔مدھیہ پردیش کے اقتدار میں آنے کے لئے زبردست کوشش کر رہی کانگریس کے سنئیر لیڈر جوتر آدتیہ سندھیا کا بھی کہنا ہے کہ پچھلے پندرہ برسوں سے ریاست میں اقتدار سے دور رہی دیش کی سب سے پرانی پارٹی کے لئے ابھی نہیں تو کبھی نہیں والی پوزیشن ہے ۔ریاست کی 230اسمبلی سیٹوں پر 28نومبر کو ووٹ پڑنے ہیں جبکہ گنتی 11دسمبر کو ہوگی ریاست میں ہمیشہ بھاجپا اور کانگریس کے درمیان سیدھا مقابلہ دیکھنے کو ملتا رہا ہے ۔جب سندھیا سے پوچھا گیا کہ ریاست کے اقتدار میں واپس لوٹنے کے لئے کیا کانگریس کے پاس بہتر مواقع ہیں تو سابق مرکزی وزیر نے کہا کہ سب سے اچھا ہے یا نہیں ...یہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں ۔جہاں تک اشوز کی بات ہے تو سرکار مخالف ماحول ،کسانوں کا مسئلہ اور بے روزگاری سب سے بڑے اشو ہیں یہاں تک کہ اجین جو شہر کی معیشت کا ایک بڑی بنیاد مہا کال کا مندر ہے وہاں بھی رام مندر اتنا بڑا اشو نہیں ہے جتنا بے روزگاری ۔چھندواڑا جو کمل ناتھ کا اپنا چناﺅی حلقہ ہے وہاں بھی صرف ایک اشو ہے نوکری اور نوکری ۔رام سین میں پچھلے سال کالج کی تعلیم مکمل کرنے والے شیلیش ساہو سرکاری بھارم بھرتے ہیں لیکن وہاں امید نہیں ہے کہ بتاتے ہیں کہ کس طرح ان کے ایک دوست کو انجینیرنگ کی ڈگری کے بعد 8ہزار روپئے مہینے کی نوکری ملی ہے اور گھر میں اسے سبھی تعنی مارتے ہیں ۔ایک تازہ روپورٹ کے مطابق مدھیہ پردیش میں 15سال کی سرکار مخالف لہر ،جی ایس ٹی،نوٹ بندی ،کسانوں کی ناراضگی اور دلت ایکٹ نے اسمبلی چناﺅ کی لڑائی کو دلچسپ بنا دیا ہے ۔کوئی لہر نہیں ہے چاہے جس سے بات کیجئے جواب دلچسپ ملتا ہے ۔ریاست میں کانٹے کی ٹکر ہے ۔عام لوگ اپنے دل کی بات نہیں بتاتے ایسی رائے ظاہر کرتے ہیں جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا یہاں تک ماہرین بھی ہوا کا رخ بھانپ نہیں پا رہے ہیں ۔230سیٹوں میں سے قریب 3درجن سیٹوں پر سہ رخی لڑائی چل رہی ہے ،بسپا سپا اور باغیوںنے بھاجپا کانگریس دونوں کی ناک میں دم کر رکھا ہے ۔دیکھیں ووٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے؟

(انل نریندر)

No comments:

Post a comment