Tuesday, 27 November 2018

ان بریک ایبل ایم سی میری کوم

دسویں مہیلا باکسنگ چمپیئن شپ کے آخری دن سنیچر وار کو اسٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔یہ پہلا موقعہ جب اتنی بڑی تعداد میں ناظرین اسٹیڈیم تک پہنچے تھے۔وجہ صاف تھی ہر کوئی اپنی پسندیدہ باکسر ایم سی میری کوم کو گولڈ میڈل جیتتے ہوئے دیکھنا چاہتا تھا ۔مقابلہ سخت تھا ۔سامنی تھی یوکرین کی 13سال چھوٹی ہنا اکھوتے ۔میری کوم نے اپنے ناظرین کو مایوس نہیں کیا اور ہنا کو 5-0سے ہرا کر گولڈ میڈیل جیت لیا ۔میری کوم نے ٹونامنٹ کے سبھی چار مقابلے 5-0سے جیتے تین بچوں کی ماں 35سالہ میری کوم نے گولڈ میڈیل جیت کر تاریخ رقم کر دی یہ ان کا چھٹہ گولڈ میڈیل ہے ۔ورلڈ چمپین شپ میں چھ گولڈ جیتنے والی دینا کی پہلی مہیلا باکسر بنی جیت کے بعد میری کوم نے کہا کہ میں اموشن ہو رہی ہوں اب 2020اولمپک کی تیاری ہے وہاں میری ویٹ کٹیگری نہیں ہے 51کلو میں کھیلنا ہوگا امید ہے کہ میں کوالیفائی کر لوں گی ۔وہاں گولڈ جیتنا میرا خواب ہے 8سال بعد ورلڈ چمپین شپ میں بھارت کو گولڈ اور 2010میں بھی میری کوم نے گولڈ دلایا تھا سونیا فائنل میں ہی ہاریں ۔بھارت نے اس چمپئین شپ میں ایک گولڈ میڈیل سمیت چار میڈیل جیتے تھے ۔اس ورلڈ باکسنگ چمپین شپ میں 66دیشوں کے کھلاڑی اترے تھے 21دیشوں نے میڈیل جیتا 13دیشوں کے کھلاڑی فائنل میں پہنچے میں نے کئی مقابلے دیکھے میری کوم کا فائنل بھی دیکھا اس چمپئین شپ کے منتظمین اور منعقد کرنے والوں کو کامیاب ٹورنامنٹ کرانے والوں کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں اریجمنٹ باکسنگ رنگ وغیرہ عالمی معیار کے تھے ایسا نہیں لگ رہا تھا کہ یہ دہلی کے اسٹیڈیم میں مقابلہ چل رہا ہے یا امریکہ کے لوس ویگس میں ۔مقابلہ جیتنے کے بعد میری کوم کے خوشی کے آنسو رکنے کو نام نہیں لے رہے تھے آخر 8سال بعد انہوں نے گولڈ میڈیل جیتا تھا۔یہ ان کی اور ان کے گھر والوں کی محنت جد وجہد و قربانی کا ہی پھل ہے ۔میری کوم ان بریک ایبل ہیں ۔انہوںنے 18سال کے کئیرئر میں اس کو ثابت کر دیا ہے ۔خطابی مقابلے سے عین پہلے میری کوم کی طبیعت خراب ہو گئی تھی ۔ممبر پارلیمنٹ اور تین بچوں کی 35سالہ ماں میری کوم تیز درد سے پریشان تھیں ۔ٹیم انتظامیہ الجھن میں پڑ گیا کہ انہیں مقابلے میں اتارا جائے یا نہیں لیکن دوائیں لے کر پھر مکے باز کی طرح میری کوم رنگ میں اتر کر عزم اور اپنی طاقت دکھاتے ہوئے ہنا ہی نہیں بلکہ درد کو بھی شکست دے دی ۔مقابلے کے دوران ظاہر تک نہیں ہونے دیا کہ درد سے انہیں پریشانی ہے ۔میری کوم کی جیت کے معنی یہ بھی ہیں کہ بیٹی بچاﺅ ،بیٹی پڑھاﺅ کی ڈگر میں رواں دواں اپنے دیش کی بچیوں کے کے لئے منی پور اور بھارت کی آئی کون اور ارجن ایوارڈ ،پدم شری اور راجیو رتن کھیل ایوارڈ اور پدم بھوشن سے نوازی جا چکی میر ی کوم راہ عمل کا ذریعہ بن چکی ہیں ۔میری کوم خاتون طاقتور کی مثال بن گئی ہیں۔

(انل نریندر)

No comments:

Post a comment